وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں کسی کی آمریت تسلیم نہیں کرتے،عدلیہ میں ”ون مین شو“ چل رہا ہے،پاکستان کی عدلیہ میں ایک آمرانہ سوچ قائم ہے،ملک کوآئینی بحران سےنکالاجائے، اور آئینی بحران کو روکنے کیلئے لارجر بینچ بنایا جائے،لارجربینچ کا فیصلہ سب ماننے کو تیار ہیں،چاہتےہیں چیف جسٹس کوتاریخ میں اچھےالفاظ میں یادرکھاجائے۔
پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہاتمام اسٹیک ہولڈرزہوش کےناخن لیں،ہم نےجمہوریت کوبچاناہے،ہم اس بحران کوختم کرناچاہتےہیں،خطرناک تجربےکی قیمت پاکستان کےعوام بھگتیں گے،لارجربینچ فیصلہ سنادےقوم ماننےکوتیارہے،چیف جسٹس پاکستان کو بچائیں۔
انہوں نے کہاتخت لاہورکی لڑائی پاکستان کی معیشت کولےڈوبےگی،آئینی بحران اسی طرح چلتارہےگاتوآگےایک اورخطرناک تجربہ ہوگا،ہم چاہتےہیں چیف جسٹس کوتاریخ میں اچھےالفاظ میں یادرکھاجائے،اگرکوئی بدنیتی نہیں تولارجربینچ بنانےمیں کیامسئلہ ہے؟ہم چاہتےہیں ملک کوآئینی بحران سےنکالاجائے، اور اس کو روکنے کیلئے لارجر بینچ بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھاقوم کی قسمت سے کھیلاجارہاہے،ملک کاوزیراعظم کون ہوگایہ کسی جج کا کام نہیں، بلکہ یہ عوام کاحق ہےکہ وہ فیصلہ کریں کہ ملک کاوزیراعظم کون بنےگا۔
وزیر خارجہ نے کہا ہماراآج بھی مطالبہ ہےصاف وشفاف الیکشن کرادو،لیول پلیئنگ فیلڈ دلوادو،رواں سال کےآخرمیں الیکشن ہونےجارہے ہیں،دوسرےالیکشن میں ہم دھاندلی کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایک الیکشن میں خان صاحب کیلئےدھاندلی کروائی گئی،2018کےالیکشن میں سابق اسٹیبلشمنٹ اورسپریم کورٹ نےدھاندلی کرائی، سابق چیف جسٹس ثاقب نثارنےتحریک انصاف کی مہم چلائی،سزاسےبچنےکیلئےڈیم فنڈمیں پیسہ جمع کراؤتومعافی ملےگی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہاہمارےملک میں چیف جسٹس چاہےتوڈیم بناسکتاہے،فنڈجمع کرسکتاہے،ہم نےملک،سسٹم اوراداروں کی خاطربہت کچھ برداشت کیا،ججزخود دیگرججزپرعدم اعتمادکااظہارکررہےہیں،پہلےبھی مسئلےآئے،لیکن اس قسم کاواضح فرق کبھی نظرنہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا، کہتےہیں سپریم کورٹ بچاناچاہتےہیں،اعلیٰ عدلیہ کواپنے آپ کوبچانا ہے،سپریم کورٹ کوسپریم کورٹ سےکون بچائے گا؟ہرجبراورظلم برداشت کرتےہواورپھرکہتےہوسول بالادستی چاہتےہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا راجہ رینٹل کاشورمچایاگیالیکن کسی کوشرم نہیں آئی،یوسف رضاگیلانی کوآئین نہ توڑنےپرگھربھیجاگیا،افتخارچوہدری کوعہدہ ملتےہی زرداری اورمیموگیٹ نظرآیا،پیپلزپارٹی نےانصاف کی بحالی کیلئےجیالوں کاخون بہایا۔
انہوں نے کہا افتخارچوہدری جیالوں کی جدوجہدکےسبب دوبارہ چیف جسٹس بنے، اوریوسف رضاگیلانی نےاپنی پہلی تقریرمیں عدلیہ کوبحال کرایا،افتخارچوہدری کوہم نےبحال کرایالیکن اسےپرویزمشرف نظرنہیں آیا۔
انہوں نے کہاسپریم کورٹ نےپرویزمشرف کوآئین میں ترمیم کی اجازت دلوائی،اس وقت بھی سپریم کورٹ سے“کُو“کےآئینی ہونےیانہ ہونےکاپوچھاگیا،پرویزمشرف کابھی عدالت کےسامنےسیدھاسوال تھا۔
وزیر خارجہ نے کہا محترمہ بینظیربھٹوکوسازش کےذریعےحکومت سےنکالاگیا،عدالت نےفیصلہ شہیدبی بی کےخلاف دیااورحکومت بھی بحال نہ کرائی،ہم بھی اپنی حکومت بحال کرانےکےلیے عدالت گئے،اخباروں کےکالم پرحکومتیں گرائی گئیں اورعدالتوں سےتوثیق کرائی گئی۔
انہوں نے کہاپہلی خاتون وزیراعظم کوصرف11ماہ چلنےکی اجازت دی گئی،اعلیٰ عدلیہ نےضیاءالحق کےڈاکےکی توثیق کی،عدالت نے بتایا ”کُو“ایک انقلاب ہوتاہے،عدالت کےسامنےضیاءالحق کی بغاوت پرسوال اُٹھایاگیا۔
چیئرمین بپیپلز پارٹی نے کہا عدالتوں کےذریعے اصلاحات کوختم کرادیا گیا،جنہیں حقوق دلوائےگئےان کےحقوق سلب کرلیےگئے،قائدعوام کو شہید کیاگیا اور آئین کو تڑوایا گیا،آج بھی وزیراعظم سےدرخواست ہےسپریم کورٹ کویاددلوائیں۔
انہوں نے کہاآصف زرداری نےقائدعوام کوانصاف دلوانےکامطالبہ کیا،آصف زرداری نےعدالتوں کوانصاف کیلئےریفرنس بھیجا۔
بلاول بھٹو نے کہاذوالفقاربھٹوکےقتل کاکیس2012سےآج تک پڑا ہواہے،قائدعوام کودنیابھرمیں آج بھی جاناجاتاہے،یہ تاریخ کافیصلہ ہے،قائدعوام کوجنہوں نےسزاسنوائی آج انہیں کوئی یادنہیں کرتا،چھوٹےلوگ آتےہیں توسمجھتےہیں وہ فیصلےسنارہےہیں۔
انہوں نے کہاآپ کویاد ہےانوارالحق کون اورکہاں دفن ہے؟کیاآپ میں سےکوئی مولوی مشتاق کویادکرتاہے؟بطوروزیرخارجہ دنیابھرمیں مجھ سےپوچھا جاتا ہے کہ آپ ذوالفقاربھٹوکےنواسےہو۔
بلاول بھٹو نے کہاذوالفقاربھٹونےکسانوں اورمحنت کشوں کوان کا حق دلایا، آج ملک کاکسان اورہاری شہیدذوالفقارعلی بھٹو کویادکررہاہے،4اپریل کودنیاقائدعوام شہیدذوالفقاربھٹوکویادکرتی ہے۔
Article source: https://www.samaa.tv/news/40018728/