قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں ملک سے دہشتگردی کےخاتمے کیلئے کارروائیاں جاری رکھنےکےعزم کا اعادہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کیساتھ مذاکرات کا سلسلہ ختم اور جامع آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا،سروسزچیفس اور متعلقہ اداروں کےاعلیٰ حکام نے شرکت کی،اس کے علاوہ چاروں صوبائی وزرائے اعلی، ڈی جی ملٹری آپریشنز، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قومی سلامتی کمیٹی بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں دہشتگردی کی حالیہ لہر کوٹی ٹی پی کیساتھ نرم گوشہ پرمبنی پالیسی کانتیجہ قرار دیتے دہشتگردوں کیخلاف قوم اورحکومت کیساتھ ملکرجامع آپریشن شروع کرنےکی منظوری دیدی گئی جبکہ جامع آپریشن کےحوالےسےاعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دےدی گئی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں پائیدارامن کیلئےسکیورٹی فورسزکی قربانیوں اورکاوشوں کااعتراف کرتے ہوئے کہا گیا کہ واپس آنےوالےدہشتگردوں کےنتیجےمیں امن واستحکام منتشرہوا،خطرناک دہشتگردوں کواعتمادسازی کےنام پرجیلوں سےبھی رہاکیاگیا،جس کےنتیجےمیں دہشت گردوں کوبلارکاوٹ واپس آنےکی اجازت دی گئی،دہشتگردوں کیلئےنرم گوشہ عوامی توقعات اورخواہشات کےبالکل منافی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں 7اپریل2012کےسانحہ گیاری سیکٹرکےشہداءکوخراج عقیدت پیش کیاگیا۔
قبل ازیں ملک میں عام انتخابات ایک ہی روز کرانے سے متعلق صوبوں کی رائے لی گئی جبکہ حساس اداروں کے سربراہان نے قومی سلامتی، سیکیورٹی اور فنڈز کی فراہمی سے متعلق متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری نے بریفنگ دی۔
اجلاس میں شرکاء کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں شرپسندی کیخلاف کارروائیوں پر اظہاراطمینان کیا گیا جبکہ دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف قرار داد منظور کرلی
شرکا نے بلوچستان میں کالعدم تنظیم کےسربراہ کی گرفتاری پراداروں کوخراج تحسین پیش کیا، رہنماؤں نے کہا سیکیورٹی اداروں کے افسروں اورجوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔ کمیٹی نے انسداد دہشتگردی آپریشنز جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو آئی ایم ایف سے مذاکرات اور دوست ممالک کے وعدوں سے بھی آگاہ کیا گیا، کمیٹی نے قومی معاملات پر کسی بھی دباؤ میں نہ آنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ملکی اندرونی اور بیرونی سلامتی پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
فورم نے ملکی سلامتی اور استحکام کےلیے سب کو ملکر اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیتے عزم ظاہر کی کہ اندرونی خلفشار اور قوم کوتقسیم کرنے کی سازش کسی صورت کامیاب نہیں ہونےدی جائیگی۔
Article source: https://www.samaa.tv/news/40018874/